تبصرے

Urdu Cyberspace


گونج ّ(شعری مجموعہ) تبصرہ


نام کتاب : گونج ّ(شعری مجموعہ) شاعرہ : عزیز بانو داراب وفاؔ مرتب : سید معین الدین علوی صفحات : 160 قیمت : 150روپے ناشر : ایجوکیشنل بک ہاؤس،شمشاد مارکٹ، علی گڑھ
مبصر : معیدر شیدی


شاعری مشینی عمل نہیں، کیفیت اور احساس کا نام ہے۔ شعر اگر کیفیات اور احساسات میں ڈوبا ہوا نہ ہو تو با ذوق قاری اس کے سپاٹ پن سے بیزاری محسوس کرتا ہے۔ شعری داخلی آہنگ اگر شدید نہ ہو تو وجدان کی میزان پر کھرا نہیں اترتا۔ عزیز بانو داراب وفاؔکی شعری کا ئنات بسیط اور متنوع ہے۔ وہ اپنے تجربات کو منفرد لہجے میں پیش کرتی ہیں جن میں ایمائیت، مخصوص پر اسرار فضا کی تشکیل کرتی ہے۔ ان کی شاعری ان کے لاشعور کی گونج ہے اور ٹوٹتے خوابوں کا سلسلہ بھی۔ آئینہ، چراغ، خواب، سایہ، سمندر، ساحل، سورج، راستہ، پرچھائیں وہ بنیادی الفاظ ہیں جو ان کی شاعری میں علامت اور استعارے میں ڈھل کر جلوہ بکھیرتے ہیں اور معنوی امکانات کی لو کو تیز تر کرتے ہیں۔ نئی تر اکیب اور نئے استعارے ان کے لب و لہجے کو تازگی بخشتے ہیں۔ ہندی الفاظ کا بر محل استعمال، الفاظ اور محاورے پر ان کی قدرت کا پتا دیتا ہے۔ نہایت رواں بحروں میں شدید داخلی جذبات کا اظہار کرتی ہیں۔ ان کی شاعری ان عناصر سے مربوط ہے جن میں اعلیٰ شاعری کے جو ہر موجود ہیں۔ جیسی سر شاری اور ماورائیت ان کی شاعری کا خاصہ ہے۔ اردو شاعری کی تاریخ میں شاعرات کے حصے میں خال خال آیا ہے۔ ان کے لہجے کی بے نام سی خوشبو ذہن کو معطر کر دیتی ہے اور فکر، دل کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ احساس کسی سوچ میں غرق کر دیتا ہے۔ جیسے بدن اور روح میں جنگ چھڑ گئی ہو۔ جیسے ذات کے نہاں خانے اپنے طلسم کو توڑ دینا چاہتے ہوں۔ جیسے زندگی کسی غار میں چھپ کر رونا چاہتی ہو۔ جیسے کوئی سایہ ہر شے پر محیط ہو جانا چاہتا ہو۔ خود میں ڈوب جانے اور خود کو دریافت کرنے کی للک تمام حائل پردوں کو چاک کردینا چاہتی ہو۔ مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ وفاؔ کی شاعری خوشبوے وفا سے معطر ہے۔ قدم قدم پر زندگی کی بے وفائی سے وفا کرنا ہر کس ونا کس کے بس کی بات نہیں۔ زندگی کسی کو جیت لیتی ہے، کوئی زندگی کو جیت لیتا ہے۔ کوئی زمانے سے،تو کوئی خود سے شکست کھاتا ہے۔ وفاؔ نے اپنے آپ سے شکست نہیں کھائی بلکہ وہ خود کو دریافت کرتی رہیں، اور دریافت کا یہ سلسلہ کبھی خواب اور کبھی سراب میں بدلتا رہا۔قرۃ العین حیدر نے بالکل صحیح کہا ہے۔ ۔ ۔ ’’۔۔ ایک نیچرل شاعرہ کی حیثیت سے ان کے یہاں آمد ہی آمد تھی‘‘۔: ہم میں جو شخص ہے اس سے نہیں بنتی اپنی
اب تو رہنے کے لیے اور کوئی گھر دیکھیں
ہماری بے بسی شہروں کی دیواروں پہ چپکی ہے
ہمیں ڈھونڈے گی کل دنیا پرانے اشتہاروں میں
میں نے اس ڈر سے لگائے نہیں خوابوں کے درخت
کون جنگل میں اگے پیڑ کو پانی دے گا
ہمیں دی جائے گی پھانسی ہمارے اپنے جسموں میں
اجاڑی ہیں تمناؤں کی لاکھوں بستیاں ہم نے
میں پھوٹ پھوٹ کے روئی مگر مرے اندر
بکھیرتا رہا بے ربط قہقہے کوئی
زردچہروں کی کتابیں بھی ہیں کتنی مقبول
ترجمے ان کے جہاں بھر کی زبانوں میں ملے
میں اس کے سامنے عریا ں لگوں گی دنیا کو
وہ میرے جسم کو میرا لباس کر دے گا
وفاؔ کی شاعری میں نسائی حسیت بھی خوبصورت پیرایے میں ڈھلتی ہے۔ مبارکباد کے لائق ہیں معین الدین علوی جنھوں نے وفا کی شاعری کو ترتیب دے کر شائع کیا۔ وفاؔ کی شاعری اس امر کی طالب ہے کہ اس پر از سر نو غور کیا جائے اور وہ مقام دیا جائے جس کی وہ مستحق ہے۔
142,Jhelum,JNU,New Delhi-67

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s